بنگلورو،2؍مارچ(ایس او نیوز) شہر میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے ساتھ ہی اسپتالوں میں ٹائفائیڈ ، سانس کی نالی کا انفکشن، پیٹ اور آنتوں کے امراض ، جلدی امراض ، خسرہ اور غذائی سمیت کے امراض میں اضافہ کی خبریں آرہی ہیں۔ناراین ہیلتھ سٹی میں داخلی ادویات کے مشیر ڈاکٹر مہیش کمار کا کہنا ہے کہ ’’شدید موسمی حالات فلو کے جرثومہ کو بڑھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، اس وقت ہم فلو اور سانس کی تکلیف جس کے نتیجہ میں کھانسی میں اضافہ ہوتا ہے اس سے متعلق مریضوں کی تعداد میں پندرہ فیصد اضافہ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔اسپتالوں میں بیرونی مریضوں کے شعبے مریضوں سے بھرے ہوئے نظر آرہے ہیں، جو بخار اور بدن میں نمی کی قلت کا شکار ہیں۔ کے سی جنرل اسپتال کے ڈاکٹر موہن نے بتایا کہ ’’بدن میں پانی کی کمی، سر درد، سستی ، بخار اور سانس کی نالی میں انفکشن کے کم از کم 25 مریض روزانہ ہماری اسپتال میں آرہے ہیں۔ ابھی موسم گرما کی ابتداء ہی ہے اور خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پیٹ اور آنتوں کے امراض میں بھاری اضافہ ہو سکتا ہے ‘‘۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خسرہ اور دستوں کے امراض میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔آسٹر سی ایم آئی اسپتال میں داخلی ادویات شعبہ کے اعلیٰ مشیر ڈاکٹر بندو متی پی ایل کا کہنا ہے کہ ’’شدید گرمی کے نتیجہ میں بدن میں پانی کم ہو جانے، دستوں، خسرہ وغیرہ کے معاملات میں اضافہ ہوتا ہے ، پانی کی قلت کے نتیجہ میں پانی میں جو آلودگی پیدا ہو جاتی ہے اس کی وجہ سے ٹائفائیڈ، پیٹ اور آنتوں کے امراض اور دستوں کے امراض میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے‘‘۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان دنوں مختلف الرجیوں کے امراض میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، اپولو اسپتال ، بنر گھٹہ روڈ میں داخلی ادویات شعبہ کے سینئر مشیر ڈاکٹر جیوتسنا کرشنپا کا کہنا ہے کہ ’’سردی، نزلہ اور زکام کے 30-50 فیصد معاملات رائینو وائرس نامی جرثومہ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو زیادہ تر بہار اور گرمیوں کے دنوں میں پرورش پاتے ہیں‘‘۔